پولیس گردی کی بد ترین مثال، تھانے میں تشدد حالت بگڑنے پر شہری جعلی مقابلے میں ہلاک، لواحقین کا احتجاج

اسلام آباد (مرزا زین) گذشتہ رات موڑ کھنڈا کے قریب پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے ڈاکو کے لواحقین نے پریس کلب ننکانہ صاحب کے سامنے پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔ ننکانہ شاہکوٹ روڈ ٹریفک کیلئے بلاک کردی اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، مقتول کی والدہ، بھائی شاہد، سسر مشتاق سمیت دیگرلواحقین کا کہنا کہ مقتول ارشد اور اسکی بیوی بشریٰ بی بی اپنی بہن کو ملنے کے بعد لاہور جانے کیلئے موڑ کھنڈا ہیڈ بلو کی روڈ پرپل نہر بونگاں گلاں کے قریب بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ دونوں نے ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا، وہ نہ رکا تو اسی اثناء میں پیچھے سے پولیس کی گاڑی آگئی جسے دیکھ کر دونوں نے پھر رکنے کا اشارہ کیا تو پولیس نے گاڑی روک کر پوچھا کہ کیا بات ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور جانے کیلئے ٹرک والے کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہیں رکا جس پر پولیس نے کہا کہ تم ڈاکو ہو، پولیس انہیں گاڑی میں بٹھا کر تھانہ مانگٹانوالہ لے گئی جہاں پولیس نے ارشد پر تشدد کیا‘ تشدد سے حالت بگڑنے پر اسے جائے وقوعہ پر لے جاکر جعلی پولیس مقابلہ میں پار کر دیا۔ پولیس نے مقتول کی بیوی بشریٰ بی بی کو مرضی کا بیان نہ دینے پر ڈکیتی کے مقدمہ میں گرفتار کرلیا۔ دوسری طرف پولیس رپورٹ کے مطابق مقتول ارشد کی بیوی بشریٰ بی بی نے موڑ کھنڈا ہیڈ بلوکی روڈ پر پل نہر بونگہ گلاں کے قریب سڑک پر اکیلی کھڑی ہوکر بونگلہ گلاں کو جانے والے موٹر سائیکل سوار عارف حیات ، محمد افضل اور محمد ارشد کو رکنے کا شارہ کیا، جب وہ رکے تو اسی اثناءمیں قریبی گندم کی فصل سے پانچ نامعلوم ڈاکو باہر نکل آئے جنہوں نے ان سے ساڑھے سات ہزار روپے کی نقدی ، طلائی زیورات وغیرہ چھین لیے۔