پیپلزپارٹی کاسینیٹ انتخابات پرصدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کااعلان

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خفیہ رائے شماری ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ دباؤ اور اثر و رسوخ اور کسی ممکنہ انتقامی کارروائی سےبچانے کے لیے یہ حق ہر شہری کو دیا گیا ہے۔ صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کے انتخاب ہوں یا سینیٹر کے انتخابات ان کے لیے یہ اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ اب ہمارے اس حق پر حملہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں جامع انتخابی اصلاحات کے حامی ہیں لیکن حکومت صاف شفاف اور غیر متنازع سینیٹ انتخابات نہیں چاہتی۔ ان کے پاس بہت وقت تھا ، تین سال میں جامع قانون سازی نہیں کی گئی۔ تاہم سینیٹ میں ہم اوپن ووٹ میں بھی مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پی ڈی ایم اوپن بیلٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی نیت خراب ہے، ان کا خیال تھا کہ سینیٹ میں انہیں کھلا میدان ملے گا اور ان کا کوئی مقابل نہیں ہوگا۔ لیکن پی ڈی ایم کے میدان میں اترنے کے بعد ان حالات بدلنے کا احساس ہوا ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ ان کے اپنے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی حکومت کے ساتھ نہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے اور تاریخی مثالیں موجود ہیں۔ ریفرینس عدالت میں زیر سماعت ہے تاہم ہم صدارتی آرڈنینس کو چیلنج کریں گے اور سندھ حکومت کی جانب سے بھی چیلنج کیا جائے گا۔ اگر یہ سازش کام یاب ہوتی ہے تو پھر ارکان اسمبلی کے ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ رہ جائے گا۔

انہوں ںے کہا کہ اگر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتخابی طریقہ کار تبدیلی ہونے کی مثال قائم ہوجاتی ہے تواس کے ذریعے عام انتخابات کا طریقہ بھی تبدیل کردیا جائے گا۔ حکومت کے سہولت کاروں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم ایسا کرتے ہیں تو غلط پیغام جائے گا۔ سپریم کورٹ سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اس پر غیر جانبدارانہ فیصلہ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ رائے شمارے سے تحریک انصاف کے ارکان اور ہمارے لیے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنا آسان ہوگا لیکن حکومت کو اپنے ارکان اور اتحادیوں پر اعتماد نہیں۔

یہ خبر بھی دیکھیے: سینیٹ الیکشن آرڈیننس اگر مشروط نہ ہوتا تو کالعدم قرار دے دیتے، سپریم کورٹ

ڈی جی آئی ایس پی آر کےبیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں ان سے سو فیصد متفق ہوں۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ادارے سایست سے دور رہے ، ان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: فوج کا نہ سیاست سے تعلق ہے اور نہ کسی سے بیک ڈور رابطے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ پنڈی پہنچنے سے بہت ہی پہلے ہماری طاقت سب کو نظر آجائے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دور رہے۔ خدا نخواستہ سینیٹ الیکشن میں بھی ادارے متنازع ہوئے تو یہ پورے پاکستان پر اس کے اثرات ہوں گے۔ 2018 کے سینیٹ الیکشن سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں ہے اور ان کے ناراض ارکان اور اتحادیوں کو نیب اور دیگر ذرائع سے دباؤ ڈال کر کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کیا گیا ہے۔