جوہر ٹاؤن دھماکا: حساس اداروں نے شواہد محفوظ کرنے کا عمل مکمل کرلیا

لاہور:  جوہر ٹاؤن میں دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے شواہد محفوظ کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔

 جائے وقوعہ سے بال بیرنگ، لوہے کے ٹکڑے اور گاڑی کے پارٹس جمع کرلئے گئے، دھماکے کی جگہ سے بارودی مواد کے کیمیکل ایگزامینیشن کے لیے سیمپل بھی اکٹھے کئے گئے۔ سی ٹی ڈی کے مختلف شہروں میں چھاپے جاری ہے، جس میں کئی مشکوک افراد کو زیر حراست لے لیا۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں ممکنہ طور پر استعمال گاڑی بابو صابو انٹر چینج سے داخل ہوئی۔ گاڑی بدھ کی صبح 9 بج کر 40 منٹ کے قریب داخل ہوئی، بابو صابو ناکے پر گاڑی کی باقاعدہ چیکنگ بھی ہوئی۔ گاڑی کا پولیس چیکنگ کے باوجود دھماکے میں استعمال ہونا سوالیہ نشان ہے۔ سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے گاڑی کے داخلے کی فوٹیج حاصل کرلی۔

دوسری جانب جوہر ٹاؤن میں دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی کیلئے گاڑی اور موٹر سائیکل کا استعمال کیا، قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے گاڑی کے مالک کو حافظ آباد سے حراست میں لے لیا۔ گاڑی اوپن لیٹر پر فروخت کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں 15 سے 20 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے۔ دھماکہ خیز مواد کار میں نصب تھا۔ دھماکے کی جگہ تین فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔