عام ادویہ آنتوں کے بیکٹیریا میں جمع ہوکرعلاج کو مشکل بنارہی ہیں

کیمبرج: ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ دمے، ڈپریشن اورزیابیطس کی عام ادویہ اگرچہ اپنا اثر تو کرتی ہیں لیکن طویل مدتی اثر میں یہ آنتوں کے بیکٹریا (جرثوموں) میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور آگے چل کر کئی ادویہ کے اثر کو کم کرسکتی ہیں یا کررہی ہیں۔ کیونکہ ادویہ جمع ہونے سے بیکٹیریا غیرمعمولی طور پر تبدیل ہورہے ہیں۔

اس معلومات سے ہم مختلف افراد پر دوا کے مختلف اثرات سمجھ سکتے ہیں اور ان کے منفی اثرات (سائیڈ افیکٹس) بھی سمجھ سکتےہیں۔ ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بعض بیکٹیریا کیمیائی طور پر بعض ادویہ کو بدل سکتےہیں جسے بایوٹرانسفارمیشن کا عمل کہتے ہیں۔

جامعہ کیمرج اور یورپی مالیکیولر بائیلوجی تجربہ گاہ ( ای ایم بی ایل)، جرمنی کی کھوج بتاتی ہے کہ کئی عام ادویہ دھیرے دھیرے سے بیکٹیریا میں جاتی رہتی ہیں اور نہ صرف انہیں اندر سے بدلتی ہیں بلکہ ان کے افعال بھی بدل دیتی ہیں۔ اب خیال ہے کہ بیکٹیریا کے بدلنے سے براہِ راست نئی دواؤں پر اثر پڑسکتا ہےاور بالراست بھی بیکٹیریا کے افعال بدل سکتے ہیں جس سے دوا کے مضر اثرات بڑھ سکتے ہیں۔

ہمارے معدے، آنت اور نظامِ ہاضمہ میں سینکڑوں، ہزاروں اقسام کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو نہ صرف صحت بلکہ امراض میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پورے مجموعے کو گٹ مائیکروبایوم کہا جاتا ہے۔ لوگوں میں اس کی ترتیب مختلف ہوتی ہے اور اب یہ حال ہے کہ ہم تندرست بیکٹریا کے گچھوں کی شناخت بھی کرچکے ہیں۔ ان کے بگڑنے سے موٹاپا، امنیاتی نظام اور دماغی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں 25 عام بیکٹیریا شناخت کئے اور انہیں کھائی جانے والی 15 عام ادویات کا سامنا کرایا گیا۔ اس طرح کل 375 ادویہ اور بیکٹیریا کے ٹیسٹ کئے گئے۔ تحقیق میں 70 ملاپ ایسے تھے جن میں 29 کو اس سے قبل نہیں دیکھا گیا تھا۔

اس طرح بیکٹیریا اور ادویہ کے نئے 29 تعاملات میں سے 17 میں دوا بدلےکسی تبدیلی کے بغیر جمع ہونے لگیں۔ پھر ڈپریشن کی ایک دوا ڈیولوکزیٹائن نے تو بیکٹیریا کی کالونی ہی بدل دی اور ان کا توازن شدید بگڑ گیا۔ پھر ایک کیڑے پر ان کی آزمائش کی گئی اور اس کے بعد کیڑوں کا برتاؤ بھی بدل گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق کا ایک نیا باب ہے جس پر مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔