چاند اور انسانی نیند میں پراسرار تعلق دریافت

سویڈن: چاند کی پیدائش سے لے کر چودھویں کے چاند بننے تک کا دورانیہ بالخصوص مردوں کی نیند پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کا اثر خواتین پر کم کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق ٹوٹل اینوائرنمنٹ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس ضمن میں 492 خواتین اور 360 مردوں کا باقاعدہ سروے کیا ہے جس کے نتائج پچھلے مشاہدات سے قدرے مختلف و مخالف ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چڑھتے ہوئے چاند کے پہلے دو ہفتے انسانی نیند کو متاثر کرتے ہیں جبکہ دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔

چڑھتے چاند کا عمل ’’ویکسنگ‘‘ کہلاتا ہے جس میں اس سے منعکس ہونے والی روشنی بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ اس دوران رات دیرتک چاند کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین نے چڑھتے چاند کی راتوں میں تمام خواتین اور مردوں کی نیند ریکارڈ کی۔ اس دوران مردوں کی نیند متاثر ہوئی۔
اسی طرح قمری دورانیے کے دوسرے نصف یعنی ڈھلتے ہوئے چاند کی راتوں میں بھی یہ تجربہ دوہرایا گیا تاہم اس عرصے میں مردوں اور خواتین کی نیند پر کچھ خاص اثرات سامنے نہیں آئے۔ اسی بنا پر تحقیق کے سربراہ کرسچیان بینیڈکٹ نے کہا کہ چاندنی راتیں نیند پر اثرانداز ہوتی ہیں اور اس مسئلے پر مزید تحقیق پر زور بھی دیا۔
اس کی وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی لیکن خیال ہے کہ بڑھتے ہوئے چاند کی منعکس شدہ روشنی مردوں کی مختلف دماغی کیفیت کی بنا پر ان کی نیند متاثر کرتی ہے۔