دانتوں کی حفاظت کےلیے ’نینوزائم‘ تھراپی

انڈیانا: امریکی سائنسدانوں نے دانتوں کی حفاظت کےلیے ’نینوزائم تھراپی‘ کے نام سے ایک نئے طریقے کو روایتی تدابیر کے مقابلے میں دگنا بہتر اور مؤثر قرار دیا ہے۔

دانتوں کے تحفظ اور انہیں ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کےلیے ’نینوزائم تھراپی‘ حالیہ چند برسوں کے دوران سامنے آئی ہے جس میں آئرن آکسائیڈ کے نینو ذرّات اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ والے محلول کو کسی ماؤتھ واش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جسم میں فولاد (آئرن) کی کمی دور کرنے کےلیے آئرن آکسائیڈ نینو ذرّات والے محلول کا استعمال پہلے ہی ادویہ کے امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ کا منظور شدہ ہے جبکہ ماؤتھ واش میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بھی برسوں سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔
یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور انڈیانا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 2018 میں ان دونوں مادّوں کے ملاپ سے دانتوں کی حفاظت میں ابتدائی امید افزا دریافتیں کی تھیں جن پر انہوں نے پچھلے تین سال کے دوران مزید کام کیا۔

اب تک یہ تو نہیں معلوم کہ آئرن آکسائیڈ کے نینو ذرّات اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کس طرح عمل کرتے ہوئے دانتوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتے ہیں لیکن مشاہدات اور تجربات سے اب ان کی مشترکہ افادیت ثابت ہوچکی ہے۔

تازہ تجربات میں پہلے مرحلے پر بالکل اصل جیسی بتیسیوں پر ’نینوزائم تھراپی‘ کی گئی جس کے بعد، دوسرے مرحلے میں یہی عمل رضاکاروں پر دہرایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے روزانہ دو مرتبہ ’نینوزائم تھراپی‘ کا عمل (ماؤتھ واش کی طرح) کیا تھا، ان کے دانتوں پر انیمل کی حفاظتی پرت برقرار رہی جبکہ ان کے دانت بھی مضبوط رہے۔

ریسرچ جرنل ’نینو لیٹرز‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، نینوزائم تھراپی سے نہ صرف دانتوں پر جم کر نقصان پہنچانے والے ’پلاک‘ کی بالائی پرت کا خاتمہ ہوا بلکہ دانتوں کو گلانے، سڑانے اور کھوکھلا کرنے والے جرثومے بھی ہلاک ہوگئے۔

نینوزائم تھراپی کی کچھ مزید آزمائشیں ابھی باقی ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد اسے دانتوں کی حفاظت کےلیے ایک نئے طریقے کے طور پر پیش کردیا جائے گا۔